سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک عوامی بیان میں نیٹو (NATO) کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں ناکافی حمایت پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ بیان ان کی امریکہ کی خارجہ پالیسی میں “امریکہ فرسٹ” کے یکطرفہ نقطہ نظر کو ترجیح دینے اور اتحادیوں سے دفاعی اخراجات میں زیادہ شراکت کے دیرینہ مطالبے کی عکاسی کرتا ہے، جس سے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ممکنہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
پس منظر: ٹرمپ، نیٹو اور ایران کے تعلقات
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں نیٹو اور ایران دونوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ ٹرمپ نے نیٹو کو کئی بار “فرسودہ” قرار دیا اور اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں، بصورت دیگر امریکہ اپنی فوجی موجودگی پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔ اس سے نیٹو کے رکن ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ امریکہ اپنے روایتی اتحادیوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔
اسی دوران، ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی عروج پر رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی اور ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل جیسے واقعات نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ان حالات میں، ٹرمپ کا نیٹو سے ایران کے خلاف فوجی حمایت کا مطالبہ، اگرچہ اس وقت عملی نہیں ہو سکا، ان کی جارحانہ خارجہ پالیسی کا حصہ تھا۔
ٹرمپ کی تنقید اور نیٹو کا کردار
ٹرمپ کی حالیہ تنقید اس بات پر مرکوز ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک، جنہیں وہ امریکی دفاعی چھتری تلے فائدہ اٹھانے والے سمجھتے ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف میں خاطر خواہ حمایت فراہم نہیں کر رہے۔ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں نیٹو کی “ناقص” حمایت کا ان کا الزام نیٹو کے بنیادی اصولوں اور اس کے چارٹر سے متصادم ہے۔ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے جو اپنے رکن ممالک کے خلاف کسی بھی حملے کی صورت میں اجتماعی دفاع (آرٹیکل 5) کو یقینی بناتا ہے۔ کسی غیر رکن ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر، انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے وسیع حمایت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ سفارتی حل کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر کی یہ تنقید اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو وہ اپنے اتحادیوں سے مزید سخت مطالبات کر سکتے ہیں، جس سے نیٹو کی داخلی ہم آہنگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کی آراء اور عالمی ردعمل
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین ٹرمپ کے بیانات کو نیٹو کے اتحاد کے لیے ایک مستقل چیلنج قرار دیتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک کے سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر فاطمہ خان کہتی ہیں، “ٹرمپ کا یہ نقطہ نظر نیٹو کے اجتماعی دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے اور اتحادیوں کے درمیان اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ نیٹو کا مقصد مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک رکن ملک کی یکطرفہ جارحانہ پالیسیوں کی حمایت کرنا۔”
یورپی یونین کے ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، “یورپی ممالک ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور سفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ فوجی کارروائی کے لیے نیٹو کی حمایت کا مطالبہ خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتا ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔” اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں نیٹو کے رکن ممالک کا دفاعی خرچ 1.1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا، جس میں امریکہ کا حصہ اب بھی سب سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ کا یہ مطالبہ کہ اتحادی مزید خرچ کریں، ان کی “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔
مستقبل کے مضمرات اور آگے کیا دیکھنا ہے؟
ٹرمپ کے اس طرح کے بیانات کے مستقبل میں گہرے مضمرات ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ دوبارہ صدارت کا انتخاب جیت جاتے ہیں، تو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بار پھر یکطرفہ رجحانات غالب آ سکتے ہیں، جس سے نیٹو کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
ایران کے حوالے سے، اس طرح کی دھمکیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر مزید سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر، یہ صورتحال کثیر القومی اتحادوں کے کردار اور افادیت پر بحث کو تیز کرے گی، خاص طور پر جب قوم پرستی اور خود مختاری کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ آئندہ امریکی انتخابات اور یورپی ممالک کی دفاعی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیاں مستقبل میں ان تعلقات کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ سفارتی کوششوں اور علاقائی استحکام پر گہری نظر رکھنا ضروری ہو گا۔


