امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران میں “صحیح لوگوں” کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے، یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی عروج پر تھی اور امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا تھا۔ یہ مبینہ پس پردہ کوششیں واشنگٹن کی جانب سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے باوجود سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم، اطلاعات کے مطابق، اس بارے میں اہم اتحادی اسرائیل کے تحفظات تھے۔
پس منظر: امریکہ-ایران تعلقات میں کشیدگی
امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران یہ تعلقات ایک نئی نچلی سطح پر پہنچ گئے۔ 2018 میں، امریکہ نے ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی، جسے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔
اس کے بعد، واشنگٹن نے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم شروع کی، جس میں سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں جن کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے اپنے جوہری اور علاقائی عزائم سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا تھا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں خلیج فارس میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا، تیل کے ٹینکروں پر حملے، ڈرون گرائے جانے کے واقعات اور امریکہ کی جانب سے خطے میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی دیکھنے میں آئی۔ یہ صورتحال ایک وسیع تر تصادم کے خدشات کو جنم دے رہی تھی۔
ٹرمپ کے پراسرار دعوے اور پس پردہ کوششیں
سابق صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کے ساتھ خفیہ بات چیت کے دعوے کیے، جن میں “صحیح لوگوں” سے مراد وہ افراد تھے جو ممکنہ طور پر ایران کے اندر اثر و رسوخ رکھتے تھے اور بات چیت کے لیے تیار تھے۔ ان دعوؤں کی تفصیلات مبہم رہیں، جس سے عالمی برادری میں قیاس آرائیاں بڑھ گئیں۔
یہ بات چیت، اگرچہ غیر مصدقہ تھی، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتی تھی کہ امریکہ، اپنی سخت پالیسی کے باوجود، سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ رابطے کی کوششیں کی تھیں، جن میں سویٹزرلینڈ اور عمان جیسے ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا پل فراہم کرتے رہے ہیں۔
ان پس پردہ کوششوں کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ طور پر ایک وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم، ایران نے عوامی سطح پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا جب تک کہ پابندیاں ہٹائی نہ جائیں۔
اسرائیل کے تحفظات اور علاقائی عدم ہم آہنگی
تاہم، ان سفارتی کوششوں کے بارے میں امریکہ کے کلیدی اتحادی اسرائیل کی پوزیشن مختلف دکھائی۔ خبروں کے مطابق، اسرائیل ان مذاکرات کے بارے میں “ایک ہی صفحے پر نہیں تھا”۔
اسرائیل نے طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے سخت خلاف رہا ہے جو اس کے جوہری عزائم کو مکمل طور پر ختم نہ کرے۔
اس عدم ہم آہنگی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ممکنہ اختلافات کو اجاگر کیا، خاص طور پر ایران کے معاملے پر جہاں دونوں ممالک کے سٹریٹجک مفادات ہمیشہ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں رہتے۔ اسرائیلی حکام نے عوامی طور پر ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور اس کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فوجی طاقت میں اضافہ اور متضاد پیغامات
ان سفارتی کوششوں کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ، امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی جاری رکھا۔ جنگی بحری جہازوں، بمبار طیاروں اور اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاوا دیا۔
یہ صورتحال ایک متضاد پیغام دیتی تھی: ایک طرف سفارت کاری کی باتیں ہو رہی تھیں اور دوسری طرف فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ فوجی دباؤ شاید ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک حکمت عملی کا حصہ تھا، لیکن اس سے خطے میں غلط فہمی اور تصادم کے خطرات بھی بڑھ گئے۔
مثال کے طور پر، آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ جھڑپیں اس کشیدگی کی عکاسی کرتی تھیں۔
ماہرین کی آراء اور امکانات
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے ان دعوؤں پر ملی جلی آراء کا اظہار کیا۔ کچھ نے اسے ایک ہوشیار حکمت عملی قرار دیا جس کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستے کھلے رکھنا تھا، جبکہ دیگر نے اسے ایک غیر مستحکم نقطہ نظر قرار دیا جو غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہا تھا۔
رینڈ کارپوریشن کے ایک سینئر تجزیہ کار نے اس وقت کہا، “ایران کے ساتھ بات چیت کے دعوے، جب کہ فوجی دباؤ بڑھ رہا ہو، ایک خطرناک کھیل ہو سکتا ہے۔ اس سے دونوں اطراف میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔”
اسی طرح، سابق امریکی سفارت کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی بامعنی بات چیت کے لیے اعتماد سازی اور واضح ایجنڈے کی ضرورت ہے، جو کہ اس وقت کی صورتحال میں مفقود نظر آتی تھی۔
مستقبل کے مضمرات اور آگے کیا دیکھنا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ خفیہ بات چیت کے دعوے، ان کی صدارت کے دوران، ایک پیچیدہ سفارتی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکہ-ایران تعلقات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں اور علاقائی اتحادیوں کے درمیان موجود اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
مستقبل میں، ایران کے ساتھ سفارت کاری کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا امریکہ اور اس کے اتحادی کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو پاتے ہیں۔ جوہری معاہدے کی بحالی یا کسی نئے معاہدے کی تلاش ایک طویل اور مشکل عمل ہو گا، جس میں خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور کرنا ضروری ہو گا۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز رہیں گی کہ آیا سفارت کاری فوجی طاقت پر غالب آتی ہے یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
اہم نکات
- ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران ایران کے ساتھ “صحیح لوگوں” کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا دعویٰ کیا۔
- یہ دعوے امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئے۔
- اسرائیل، امریکہ کا ایک اہم اتحادی، مبینہ طور پر ان پس پردہ سفارتی کوششوں کے بارے میں “ایک ہی صفحے پر نہیں تھا”۔
- متضاد صورتحال میں ایک طرف سفارت کاری کے دعوے تھے اور دوسری طرف امریکہ کی جانب سے خطے میں فوجی طاقت میں اضافہ جاری تھا۔
- ماہرین نے ان دعوؤں کو ایک پیچیدہ اور ممکنہ طور پر غیر مستحکم حکمت عملی قرار دیا جو غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی تھی۔
- مستقبل میں امریکہ-ایران تعلقات کا انحصار سفارتی ہم آہنگی اور خطے کے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور کرنے پر ہو گا۔


