لبنان سے فائر کیے گئے پروجیکٹائل سے شمالی اسرائیل میں ہلاکت، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

لبنان سے ف

پیر کی صبح شمالی اسرائیل کے سرحدی قصبے کریات شمونہ کے قریب لبنان سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل کے نتیجے میں کم از کم ایک اسرائیلی شہری ہلاک ہو گیا، جس سے پہلے سے کشیدہ سرحدی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے اس حملے کی تصدیق کی اور لبنان کی جانب سے ہونے والے اس حملے کو خطے میں جاری کشیدگی کا حصہ قرار دیا۔ یہ واقعہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تازہ ترین مظہر ہے۔

پس منظر

اسرائیل اور لبنان کی سرحد طویل عرصے سے تنازعات کا گڑھ رہی ہے، جہاں اسرائیلی افواج اور لبنان میں حزب اللہ کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ حزب اللہ، جو کہ ایران کی حمایت یافتہ ایک عسکری اور سیاسی تنظیم ہے، جنوبی لبنان کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے جاری جنگ کے تناظر میں اس سرحد پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی میں اسرائیل پر متعدد حملے کیے ہیں، جن میں راکٹ اور اینٹی ٹینک میزائل شامل ہیں۔ اسرائیل نے بھی جوابی کارروائیوں میں لبنان کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں دونوں اطراف کے شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور ردعمل

اسرائیلی حکام کے مطابق، پروجیکٹائل کریات شمونہ کے مضافات میں ایک رہائشی علاقے کے قریب گرا، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔ امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ اس حملے کے بعد کریات شمونہ اور آس پاس کے علاقوں میں سائرن بج اٹھے، اور مقامی آبادی کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں ان ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی جہاں سے پروجیکٹائل فائر کیا گیا تھا۔ IDF کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنی سرحدوں اور شہریوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، اور لبنان کی سرزمین سے ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

لبنانی حکام یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، تاہم حزب اللہ نے ماضی میں اسی طرح کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لبنان کی عبوری حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مداخلت کرے۔ اقوام متحدہ کی امن فوج (UNIFIL) جو سرحدی علاقے میں تعینات ہے، نے بھی دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

ماہرین کے نقطہ نظر اور ڈیٹا

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں براہ راست جنگ کے بغیر بھی شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ تل ابیب یونیورسٹی کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر ایال فرائیڈمین نے کہا، “یہ حملے ‘گیم چینجر’ نہیں ہیں، لیکن یہ کشیدگی کی سطح کو بتدریج بڑھا رہے ہیں جو کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی ‘ریڈ لائنز’ کو جانچ رہے ہیں۔”

عسکری ذرائع کے مطابق، 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل پر لبنان سے سینکڑوں راکٹ اور میزائل داغے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں اسرائیلی سرحدوں پر متعدد فوجی اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح، اسرائیلی فضائی حملوں اور توپ خانے کی فائرنگ سے لبنان میں بھی دسیوں افراد، جن میں حزب اللہ کے جنگجو اور عام شہری شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، سرحدی علاقوں سے دونوں اطراف کے ہزاروں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مستقبل کے مضمرات

اس تازہ حملے کے علاقائی استحکام پر گہرے مضمرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرے کو بڑھاتا ہے بلکہ وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بھی ہوا دیتا ہے۔ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ اور یورپی یونین، اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور فریقین کو تحمل کا مشاہدہ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم، غزہ میں جنگ کے جاری رہنے تک، لبنان کی سرحد پر مکمل سکون کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر مزید سخت جوابی کارروائیوں کا امکان ہے، جو ممکنہ طور پر لبنانی سرزمین کے اندر گہرائی تک ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے بھی ردعمل میں شدت آ سکتی ہے، جس سے ایک مکمل علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ آئندہ دنوں میں اقوام متحدہ اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی سفارتی کوششیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کسی بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

Share the Post:

Related Posts

Join Our Newsletter

Scroll to Top