گزشتہ ماہ، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی مشرق وسطیٰ میں ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی، جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔ اس تنازع کا آغاز خلیجی خطے میں متعدد واقعات، سائبر حملوں اور پراکسی جنگوں میں تیزی سے ہوا، جس کے بعد تینوں فریقین کی جانب سے براہ راست فوجی کارروائیاں کی گئیں، جس کا مقصد ایک دوسرے کے اسٹریٹیجک مفادات کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ پیشرفت خطے کے استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پس منظر: دہائیوں پرانی کشیدگی کا عروج
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کوئی نیا نہیں ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جہاں جوہری پروگرام، پابندیاں اور علاقائی اثر و رسوخ بنیادی تنازعات کی جڑ ہیں۔ اسی طرح، اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، خاص طور پر اس کے جوہری عزائم اور حزب اللہ اور حماس جیسی پراکسی تنظیموں کی حمایت کی وجہ سے۔
گزشتہ برسوں میں، یہ کشیدگی ایک ‘شیڈو وار’ کی صورت میں جاری رہی ہے، جس میں سائبر حملے، ٹارگٹڈ ہلاکتیں، اور خلیجی پانیوں میں بحری واقعات شامل ہیں۔ 2015 کے ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کے انخلا کے بعد سے یہ تناؤ نمایاں طور پر بڑھا، جس کے نتیجے میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں اور تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تیز کرنے کا اعلان کیا۔
پہلے ماہ کی اہم جھلکیاں: تصادم کا بڑھتا دائرہ
پہلے ماہ کے دوران، تنازع نے کئی محاذوں پر شدت اختیار کی۔ ابتدائی طور پر، ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر ایک بڑے سائبر حملے کی اطلاع ملی، جس کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا۔ اس کے جواب میں، ایران نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے حساس اہداف پر جوابی سائبر حملوں کی دھمکی دی، اور کچھ رپورٹس کے مطابق ایسے حملے کیے بھی گئے۔
خلیج اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی، جہاں متعدد تیل بردار جہازوں پر حملے ہوئے۔ ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا گیا، جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے خلیج میں اپنی بحری موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس اقدام کو عالمی توانائی کی ترسیل کے تحفظ اور ایرانی جارحیت کو روکنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
علاقائی پراکسی جنگوں نے بھی شدت اختیار کی۔ شام میں، اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے جوابی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ عراق میں، امریکہ کے فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں میں اضافہ ہوا، جن کا الزام ایران سے منسلک گروہوں پر لگایا گیا، جس کے جواب میں امریکہ نے بھی جوابی فضائی حملے کیے۔ لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی جانب سے بھی سرحدوں پر کشیدگی بڑھائی گئی، اگرچہ بڑے پیمانے پر تصادم سے گریز کیا گیا۔
ماہرین کی آراء اور عالمی ردعمل
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا آغاز غلط اندازوں اور بڑھتی ہوئی بدگمانی کا نتیجہ ہے۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے ایک سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر فاطمہ زیدی کے مطابق، “تمام فریقین نے ایک سرخ لکیر عبور کی ہے، اور اب یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس تنازع کو کیسے محدود کیا جائے۔ علاقائی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔”
عالمی سطح پر، اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت دیگر بڑی طاقتوں نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا۔ سلامتی کونسل کے متعدد ہنگامی اجلاس منعقد ہوئے، لیکن کسی بھی فریق کو جنگ بندی یا مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ عالمی توانائی کی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس سے عالمی معیشت پر کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے۔
مستقبل کے مضمرات اور آگے کیا دیکھنا ہے
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے ماہ کی یہ جنگ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ہے۔ اس کے فوری اثرات میں خطے میں مزید عدم استحکام، پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ، اور انسانی بحران شامل ہو سکتے ہیں۔
عالمی معیشت پر اس کے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عالمی تجارت میں خلل کی صورت میں۔ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے، یہ تنازع بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے لیے ایک بڑا چیلنج پیش کرتا ہے، جہاں ثالثی اور حل کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ تنازع زمینی حملوں اور وسیع فضائی مہمات میں تبدیل ہوتا ہے، یا پھر عالمی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے ذریعے محدود کارروائیوں پر واپس آتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کوئی ٹھوس ثالثی کی کوشش یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کوئی نئی قرارداد اس تنازع کے مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔


